ٹیکس ریٹرن کی آخری تاریخ گزر گئی: 78 لاکھ سے زیادہ ریٹرن جمع، رہ جانے والے اب کیا کریں؟
ٹیکس سال 2026 کے ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 اکتوبر ختم ہو گئی اور ریکارڈ 78 لاکھ سے زیادہ ریٹرن آئے۔ اگر آپ کا ریٹرن رہ گیا ہے تو جرمانہ، ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ اور دیر سے ریٹرن جمع کرانے کا طریقہ یہاں جانیں۔
ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ ہفتہ، 31 اکتوبر کو ختم ہو گئی۔ یہ تاریخ پہلے ہی دو بار بڑھائی جا چکی تھی: پہلے 30 ستمبر سے 15 اکتوبر اور پھر 31 اکتوبر تک۔
24 نیوز کے مطابق آخری تاریخ تک 78 لاکھ سے زیادہ ریٹرن جمع ہوئے، جو ایک ریکارڈ ہے۔ پچھلے سال اسی وقت تک تقریباً 57 لاکھ ریٹرن آئے تھے۔
اگر آپ کا ریٹرن رہ گیا ہے تو گھبرائیں نہیں، لیکن دیر بھی نہ کریں۔ نیچے پوری تفصیل ہے۔
اہم معلومات ایک نظر میں
| تفصیل | معلومات |
|---|---|
| ٹیکس سال | 2026 (جولائی 2025 سے جون 2026 کی آمدنی) |
| افراد اور اے او پی کی آخری تاریخ | 31 اکتوبر 2026 |
| جمع شدہ ریٹرن | 78 لاکھ سے زیادہ |
| پچھلے سال اسی وقت | تقریباً 57 لاکھ |
| جون میں سال ختم کرنے والی کمپنیاں | 31 دسمبر 2026 |
| مزید توسیع | 2 نومبر تک کوئی اعلان نہیں |
پاکستان اور لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے مزید وقت مانگا تھا۔ کچھ رپورٹس کے مطابق جنہوں نے آخری تاریخ سے پہلے توسیع کی درخواست دی تھی انہیں جرمانہ نہیں ہو گا، لیکن یہ ٹیکس آفس کی منظوری پر منحصر ہے۔
دیر سے ریٹرن جمع کرانے کا نقصان
1. جرمانہ: انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 182 کے تحت دیر سے ریٹرن جمع کرانے پر ہر دن کے حساب سے جرمانہ لگتا ہے، جس کی ایک کم از کم رقم بھی مقرر ہے۔ کم آمدنی والے تنخواہ دار افراد کے لیے یہ کم ہے۔ اپنی صورت میں صحیح رقم ٹیکس ایڈوائزر یا ٹیکس آفس سے معلوم کریں۔
2. ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ (ATL) سے باہر: دیر سے ریٹرن جمع کرانے والے کا نام سرچارج ادا کیے بغیر اے ٹی ایل میں نہیں آتا۔ بجٹ 2026-27 میں افراد کے لیے یہ سرچارج 1,000 روپے سے بڑھا کر 25,000 روپے کرنے کی تجویز تھی، اور ٹیکس ماہرین کے مطابق فنانس ایکٹ میں یہی رقم ہے، جبکہ ایف بی آر کی ویب سائٹ پر ابھی پرانی رقم لکھی تھی۔ ادائیگی سے پہلے ایف بی آر سے تصدیق کر لیں۔
3. زیادہ ٹیکس کٹوتی: جن لوگوں کا نام اے ٹی ایل میں نہیں ہوتا، ان سے بینک منافع، جائیداد کی خرید و فروخت اور گاڑی کی رجسٹریشن جیسے کاموں پر زیادہ ٹیکس کاٹا جاتا ہے۔ یہ اضافی کٹوتی اکثر جرمانے سے بھی زیادہ پڑتی ہے۔
اب کیا کریں؟
- جلد از جلد ریٹرن جمع کرائیں: ایف بی آر کے آئرس پورٹل iris.fbr.gov.pk پر۔ ہر دن کی دیر سے جرمانہ بڑھتا ہے۔
- کاغذات تیار رکھیں: تنخواہ کا سرٹیفکیٹ، بینک منافع اور ود ہولڈنگ ٹیکس کے سرٹیفکیٹ، اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ کے لیے جائیداد اور گاڑی کی تفصیل۔
- اپنا اے ٹی ایل اسٹیٹس چیک کریں: "ATL" لکھیں، پھر اسپیس دے کر اپنا 13 ہندسوں کا شناختی کارڈ نمبر لکھیں اور 9966 پر بھیج دیں۔
- رسید سنبھال کر رکھیں: ریٹرن جمع ہونے کی رسید بینک یا خریدار مانگ سکتا ہے۔
اگر آپ نے وقت پر ریٹرن جمع کرا دیا
آئرس پر دیکھ لیں کہ ریٹرن کی حیثیت "Completed" ہے۔ 31 اکتوبر کی رات 12 بجے سے پہلے جمع کرایا گیا ریٹرن وقت پر شمار ہوتا ہے۔ اے ٹی ایل میں نام آنے میں چند دن لگ سکتے ہیں۔
یہ عام معلومات ہیں، ٹیکس کا مشورہ نہیں۔ قواعد اور رقوم بدل سکتی ہیں، اس لیے ایف بی آر یا ٹیکس ایڈوائزر سے تصدیق کریں۔
ذرائع
- 24NewsHD - Pakistan income tax return deadline ends, late filers face penalties
- 24NewsHD - FBR receives record 7.5 million income tax returns till 30 Oct
- Geo News - FBR further extends income tax return filing deadline to October 31
- Pakera - Tax return last date 31 October 2026
یہ خبر اوپر دیے گئے ذرائع سے تصدیق کر کے اپنے الفاظ میں لکھی گئی ہے۔ کوئی غلطی نظر آئے تو غلطی کی اطلاع دیں.