اسٹاک مارکیٹ: KSE-100 انڈیکس 155 پوائنٹس اضافے سے 166,564 پر بند، مگر 319 کمپنیوں کے شیئر گر گئے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس 2 نومبر کو 154.81 پوائنٹس بڑھ کر 166,564 پر بند ہوا، مگر زیادہ کمپنیوں کے شیئر گرے اور کاروبار تقریباً آدھا رہ گیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کا KSE-100 انڈیکس پیر 2 نومبر 2026 کو 154.81 پوائنٹس یا 0.09 فیصد اضافے کے بعد 166,564.07 پوائنٹس پر بند ہوا۔ یہ معمولی اضافہ دن کے آخری حصے میں خریداری کی وجہ سے ہوا، کیونکہ صبح کے وقت انڈیکس کافی نیچے چلا گیا تھا۔
لیکن انڈیکس کا سبز رنگ پوری تصویر نہیں دکھاتا۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق اس روز 319 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت کم ہوئی جبکہ صرف 137 کے شیئر بڑھے۔
پیر کا کاروبار: اہم اعداد و شمار
| تفصیل | 2 نومبر (پیر) | 30 اکتوبر (جمعہ) |
|---|---|---|
| KSE-100 کی بندش | 166,564.07 | 166,409.25 |
| تبدیلی | +154.81 پوائنٹس | -784.18 پوائنٹس |
| کاروباری حجم | 44 کروڑ 34 لاکھ شیئرز | 82 کروڑ 55 لاکھ شیئرز |
| کاروبار کی مالیت | تقریباً 17.73 ارب روپے | تقریباً 23.12 ارب روپے |
دن کے دوران انڈیکس کی کم ترین سطح 165,585.42 اور بلند ترین سطح 166,989.76 رہی، یعنی ایک ہی دن میں تقریباً 1,400 پوائنٹس کا اتار چڑھاؤ ہوا۔
انڈیکس اوپر مگر زیادہ شیئر نیچے، اس کا مطلب کیا ہے؟
KSE-100 انڈیکس میں بڑی کمپنیوں کا وزن زیادہ ہوتا ہے۔ اگر چند بڑی کمپنیوں کے شیئر بڑھ جائیں تو انڈیکس اوپر جا سکتا ہے، چاہے زیادہ تر چھوٹی کمپنیوں کے شیئر گر رہے ہوں۔
پیر کو یہی ہوا۔ کل 496 کمپنیوں میں کاروبار ہوا، جن میں سے:
- 137 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت بڑھی
- 319 کی قیمت کم ہوئی
- 40 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی
ساتھ ہی کاروباری حجم جمعہ کے مقابلے میں تقریباً آدھا رہ گیا۔ مارکیٹ کی زبان میں اسے محتاط کاروبار کہا جاتا ہے، یعنی سرمایہ کار بڑے فیصلوں سے پہلے انتظار کر رہے ہیں۔ مارکیٹ کی مجموعی مالیت بھی تقریباً 18,389 ارب روپے سے کم ہو کر 18,293 ارب روپے رہ گئی۔
سب سے زیادہ کاروبار کن شیئرز میں ہوا؟
بزنس ریکارڈر کے اعداد و شمار کے مطابق حجم کے لحاظ سے سرفہرست تین کمپنیاں یہ تھیں:
| کمپنی | کاروبار ہونے والے شیئرز |
|---|---|
| سنرجیکو پی کے (CNERGY) | 9 کروڑ 31 لاکھ |
| پرویز احمد کنسلٹنسی (PASL) | 4 کروڑ 52 لاکھ |
| ٹی پی ایل پراپرٹیز (TPLP) | 3 کروڑ 1 لاکھ |
ایک ہفتے میں انڈیکس کہاں سے کہاں پہنچا؟
ہم نے 27 اکتوبر کو بتایا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی شرح سود 12 فیصد ہونے کے بعد انڈیکس 164,467.20 پر بند ہوا تھا۔ تفصیل ہماری انگریزی رپورٹ میں موجود ہے۔ اس کے مقابلے میں پیر کی بندش تقریباً 2,097 پوائنٹس یا 1.27 فیصد زیادہ ہے۔
جمعہ 30 اکتوبر کو انڈیکس 784 پوائنٹس گرا تھا، جب دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے شیئرز پر دباؤ تھا۔ پیر کو اس کمی کا ایک چھوٹا حصہ واپس آیا۔
پس منظر: عالمی منڈی اور تیل
بزنس ریکارڈر کے مطابق پیر کو ایشیائی مارکیٹیں کچھ سنبھلیں اور ایران اور قطر کے ثالثوں کے درمیان بات چیت کی خبروں پر تیل کی قیمتیں نیچے آئیں۔ تیل سستا ہونے کا اثر پاکستان میں 3 نومبر سے پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں میں بھی نظر آیا۔ تیل کی قیمت کمپنیوں کی لاگت اور ملک کے درآمدی بل دونوں پر اثر ڈالتی ہے، اس لیے سرمایہ کار اس پر نظر رکھتے ہیں۔
عام سرمایہ کار کیا کرے؟
- صرف انڈیکس نہ دیکھیں: جس کمپنی میں آپ کا پیسہ ہے، اس کا اپنا نتیجہ اور خبریں دیکھیں۔ پیر کو انڈیکس بڑھا مگر زیادہ تر شیئر گرے۔
- صرف لائسنس یافتہ بروکر سے کام لیں: کسی واٹس ایپ گروپ یا "یقینی منافع" کے دعوے پر بھروسہ نہ کریں۔
- وہ رقم لگائیں جس کی فوری ضرورت نہ ہو: اسٹاک مارکیٹ ایک دن میں 1,400 پوائنٹس تک اوپر نیچے ہو سکتی ہے۔
- سونے اور ڈالر کے ریٹس بھی دیکھیں: روزانہ کی تبدیلی ہمارے ریٹ ٹریکر پر موجود ہے۔
یہ مضمون صرف معلومات کے لیے ہے، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔
مزید مفت ٹولز: Profit margin calculator
ذرائع
- Business Recorder - PSX: KSE-100 closes higher as late-session recovery lifts market
- ARY News - PSX: Stocks close on positive note as KSE-100 index gains 155 points
- Business Recorder - PSX: KSE-100 ends in red after late sell-off
یہ خبر اوپر دیے گئے ذرائع سے تصدیق کر کے اپنے الفاظ میں لکھی گئی ہے۔ کوئی غلطی نظر آئے تو غلطی کی اطلاع دیں.
